پاکستان میں نیشنل اولیو ویلیو چین پالیسی کا آغاز، خوردنی تیل کی درآمد کم کرنے کی بڑی کوشش
پاکستان میں زیتون کی پیداوار، پروسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن کو فروغ دینے کے لیے نیشنل اولیو ویلیو چین پالیسی کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اسلام آباد میں پالیسی کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ زیتون کا شعبہ پاکستان کی زرعی معیشت کو مضبوط بنانے اور خوردنی تیل کی درآمدی لاگت کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
خوردنی تیل کی درآمد پر بڑا خرچ
وزیراعظم کے مطابق پاکستان ہر سال تقریباً 4 ارب ڈالر کا خام خوردنی تیل درآمد کرتا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اگر مقامی سطح پر خوردنی تیل کی پیداوار بڑھائی جائے تو درآمدی بل میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایک سال میں 400 ملین ڈالر کی بچت بھی ملک کے لیے ایک بڑی کامیابی ہوگی۔
زیتون کے شعبے میں بڑی صلاحیت
پاکستان میں زیتون کی کاشت گزشتہ برسوں کے دوران نمایاں طور پر بڑھی ہے۔ سرکاری حکام کے مطابق ملک میں زیتون کے پودوں کی تعداد تقریباً 5 لاکھ سے بڑھ کر 70 لاکھ سے زیادہ ہو چکی ہے۔ زیتون کے باغات پنجاب، خیبرپختونخوا، بلوچستان اور سندھ سمیت مختلف علاقوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔
نئی پالیسی کا بنیادی مقصد
نیشنل اولیو ویلیو چین پالیسی کا مقصد صرف زیتون کے پودے لگانا نہیں بلکہ پیداوار سے لے کر تیل نکالنے، پروسیسنگ، معیار بہتر بنانے، برانڈنگ اور مارکیٹنگ تک پوری ویلیو چین کو مضبوط بنانا ہے۔ حکومت اس شعبے کو ایک منظم زرعی صنعت میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
پیداوار سے آگے بڑھنے پر زور
وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا کہ زیتون کے شعبے میں صرف کاشت پر توجہ کافی نہیں ہوگی۔ ملک کو زیتون کے تیل کی پیداوار، پروسیسنگ، پیکنگ، معیار اور ویلیو ایڈیشن پر بھی توجہ دینا ہوگی تاکہ کسانوں کو بہتر آمدنی ملے اور ملکی صنعت کو عالمی منڈی تک رسائی حاصل ہو۔
100 زرعی گریجویٹس اٹلی جائیں گے
حکومت نے 100 نوجوان زرعی گریجویٹس کو اٹلی بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ نوجوان زیتون کی کاشت، پیداوار، پروسیسنگ اور مارکیٹنگ سمیت ویلیو چین کے مختلف شعبوں میں جدید تربیت حاصل کریں گے۔ حکومت کے مطابق تربیت حاصل کرنے والے نوجوان پاکستان واپس آ کر مقامی زیتون کے شعبے کو مزید مضبوط بنانے میں کردار ادا کریں گے۔
پاکستان اور اٹلی کا زرعی تعاون
زیتون کے شعبے میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان کئی برس سے تعاون جاری ہے۔ اٹلی نے پاکستان میں زیتون کی کاشت، تحقیق، نرسریوں، لیبارٹریز اور تربیت کے مختلف منصوبوں میں تعاون کیا ہے۔ نئی پالیسی کے موقع پر دونوں ممالک کے درمیان زرعی تعاون کو مزید آگے بڑھانے کی خواہش بھی سامنے آئی۔
اٹلی کی مسلسل معاونت
پاکستان میں زیتون کے شعبے کی ترقی میں اٹلی کے تعاون کو اہم قرار دیا گیا ہے۔ اطالوی سفیر نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان سات دہائیوں پر محیط شراکت داری ہے جس میں زراعت، تجارت، صنعت، سائنس اور تعلیم سمیت مختلف شعبے شامل ہیں۔
زیتون کے باغات میں نمایاں اضافہ
دستیاب سرکاری معلومات کے مطابق پاکستان میں زیتون کے پودوں کی تعداد 2016 میں تقریباً 5 لاکھ تھی جو اب 70 لاکھ سے زیادہ ہو چکی ہے۔ یہ اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ملک میں زیتون کی کاشت کے لیے دلچسپی اور صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
تقریباً 60 ہزار ایکڑ رقبہ
حکام کے مطابق ملک بھر میں زیتون کے باغات تقریباً 60 ہزار ایکڑ رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں۔ پنجاب، خیبرپختونخوا، بلوچستان اور سندھ میں زیتون کی کاشت کے مختلف منصوبے جاری ہیں۔ حکومت کا مقصد ان علاقوں میں پیداوار اور پروسیسنگ کی صلاحیت کو مزید بہتر بنانا ہے۔
بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے کسان
وزیراعظم نے بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے ان کسانوں کو بھی سراہا جنہوں نے زیتون کی کاشت کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان علاقوں کے بعض باغات اور زیتون سے متعلق مصنوعات نے بین الاقوامی سطح پر بھی اعزازات حاصل کیے ہیں۔
کسانوں کی آمدنی بڑھانے کا امکان
زیتون کی کامیاب ویلیو چین کسانوں کے لیے اضافی آمدنی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ اگر پیداوار کے ساتھ ساتھ تیل نکالنے، پیکنگ اور مارکیٹنگ کے نظام کو بہتر بنایا جائے تو کسان اپنی پیداوار کو زیادہ قدر والی مصنوعات میں تبدیل کر سکتے ہیں۔
دیہی معیشت کے لیے اہم قدم
زیتون کی صنعت کا فروغ صرف خوردنی تیل کی پیداوار تک محدود نہیں بلکہ اس سے دیہی علاقوں میں روزگار کے مواقع بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ باغات کی دیکھ بھال، پھل توڑنے، پروسیسنگ، پیکنگ، نقل و حمل اور مارکیٹنگ کے شعبوں میں نئی سرگرمیاں پیدا ہونے کی توقع ہے۔
خواتین اور نوجوانوں کے لیے مواقع
حکومت کی نئی پالیسی سے خواتین اور نوجوانوں کے لیے بھی زرعی کاروبار کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ زیتون کی مصنوعات کی پروسیسنگ، پیکنگ، برانڈنگ اور مارکیٹنگ میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار شروع کیے جا سکتے ہیں۔
زیتون کے تیل کی مقامی پیداوار
پاکستان کے لیے سب سے اہم ہدف مقامی سطح پر زیتون کے تیل کی پیداوار بڑھانا ہے۔ اس سے درآمدی خوردنی تیل پر انحصار کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ حکومت کا خیال ہے کہ مسلسل سرمایہ کاری اور بہتر زرعی طریقوں کے ذریعے ملک چند برسوں میں خوردنی تیل کے شعبے میں خودکفالت کی جانب بڑھ سکتا ہے۔
پروسیسنگ اور معیار کی ضرورت
زیتون کے شعبے کی کامیابی کے لیے جدید پروسیسنگ یونٹس اور معیار کی نگرانی ضروری ہوگی۔ صرف زیتون پیدا کرنا کافی نہیں بلکہ معیاری تیل تیار کرنے، اسے محفوظ رکھنے اور عالمی معیار کے مطابق پیک کرنے کی صلاحیت بھی بڑھانا ہوگی۔
برانڈنگ اور مارکیٹنگ پر توجہ
نئی پالیسی میں برانڈنگ اور مارکیٹنگ کو بھی اہمیت دی گئی ہے۔ پاکستان میں پیدا ہونے والے زیتون کے تیل اور دیگر مصنوعات کو ملکی اور بین الاقوامی مارکیٹ میں بہتر انداز میں متعارف کرانے سے اس شعبے کی تجارتی صلاحیت میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
پاکستان کو علاقائی مرکز بنانے کا ہدف
حکومت کا طویل مدتی ہدف پاکستان کو جنوبی، وسطی اور مشرقی ایشیا کے لیے زیتون کے تیل کی ایک اہم علاقائی مارکیٹ اور پیداواری مرکز بنانا ہے۔ اس مقصد کے لیے پیداوار، معیار، پروسیسنگ، برانڈنگ اور برآمدی نظام کو ایک ساتھ مضبوط کرنا ہوگا۔
زرعی تحقیق کی اہمیت
زیتون کی پیداوار بڑھانے کے لیے زرعی تحقیق بھی ضروری ہے۔ بہتر اقسام، آبپاشی، موسمی حالات، بیماریوں سے تحفظ اور جدید کاشت کاری کے طریقوں پر تحقیق سے پیداوار اور معیار دونوں میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔
نوجوان زرعی ماہرین کا کردار
اٹلی جانے والے 100 زرعی گریجویٹس کو جدید تربیت دینے کا فیصلہ اس حوالے سے اہم ہے۔ اگر تربیت یافتہ نوجوان پاکستان واپس آ کر کسانوں اور زرعی اداروں کے ساتھ عملی طور پر کام کریں تو اس شعبے میں جدید تکنیکوں کے استعمال کو تیز کیا جا سکتا ہے۔
درآمدی بل کم کرنے کی کوشش
پاکستان کا خوردنی تیل کا درآمدی بل کئی ارب ڈالر سالانہ ہے۔ مقامی زیتون کی پیداوار میں اضافہ اس درآمدی ضرورت کو مکمل طور پر ختم نہیں کرے گا، لیکن طویل مدت میں اس میں کمی لانے کے لیے ایک اضافی مقامی ذریعہ فراہم کر سکتا ہے۔
برآمدات کے امکانات
اگر پاکستان اعلیٰ معیار کا زیتون کا تیل اور دیگر مصنوعات تیار کرنے میں کامیاب ہوتا ہے تو مستقبل میں برآمدات کے مواقع بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ عالمی مارکیٹ میں پاکستانی مصنوعات کے لیے جگہ بنانے کے لیے معیار، مستقل پیداوار، برانڈنگ اور بین الاقوامی سرٹیفکیشن اہم ہوں گے۔
پاکستان اٹلی تعلقات میں نیا شعبہ
زیتون کی پالیسی پاکستان اور اٹلی کے اقتصادی و زرعی تعلقات میں بھی ایک نیا باب بن سکتی ہے۔ دونوں ممالک پہلے ہی مختلف شعبوں میں تعاون کر رہے ہیں اور زیتون کا شعبہ مستقبل میں مشترکہ سرمایہ کاری اور تکنیکی تعاون کے لیے مزید مواقع پیدا کر سکتا ہے۔
پالیسی کے عملی نفاذ کا چیلنج
نئی پالیسی کا اصل امتحان اس کے عملی نفاذ میں ہوگا۔ کسانوں تک جدید سہولیات پہنچانا، معیاری پودے فراہم کرنا، پانی اور تکنیکی مدد دینا، پروسیسنگ یونٹس قائم کرنا اور مارکیٹ تک رسائی بہتر بنانا اس منصوبے کی کامیابی کے لیے ضروری ہوگا۔
خودکفالت کی جانب قدم
حکومت کا مؤقف ہے کہ پاکستان چند برسوں میں خوردنی تیل کے شعبے میں زیادہ خودکفیل ہو سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے زیتون کے ساتھ دیگر تیل دار فصلوں پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہوگی تاکہ ملکی پیداوار میں مجموعی اضافہ کیا جا سکے۔
اہم معاشی اثرات
زیتون کی صنعت میں توسیع سے زرعی آمدنی، روزگار، مقامی صنعت اور ممکنہ برآمدات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اگر مقامی خوردنی تیل کی پیداوار بڑھے تو درآمدی بل میں بھی کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اہم حقائق
پاکستان ہر سال تقریباً 4 ارب ڈالر کا خوردنی تیل درآمد کرتا ہے۔ حکومت نے نیشنل اولیو ویلیو چین پالیسی کا آغاز کر دیا ہے۔ ملک میں زیتون کے پودوں کی تعداد 70 لاکھ سے زیادہ بتائی گئی ہے۔ زیتون کے باغات تقریباً 60 ہزار ایکڑ رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں۔ حکومت 100 زرعی گریجویٹس کو اٹلی تربیت کے لیے بھیجنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ پالیسی میں پیداوار، پروسیسنگ، معیار، برانڈنگ اور مارکیٹنگ پر توجہ دی گئی ہے۔
خبر کی مکمل تصدیق
اس خبر کے اہم نکات ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان، ریڈیو پاکستان اور بزنس ریکارڈر کی رپورٹس سے Cross-check کیے گئے ہیں۔ تمام ذرائع نے نیشنل اولیو ویلیو چین پالیسی کے آغاز، خوردنی تیل کی درآمدی لاگت، زیتون کے شعبے کی ترقی اور 100 زرعی گریجویٹس کو اٹلی تربیت کے لیے بھیجنے کے منصوبے کی تصدیق کی ہے۔
اہم سوالات
نیشنل اولیو ویلیو چین پالیسی کیا ہے؟
یہ ایسی پالیسی ہے جس کا مقصد زیتون کی کاشت سے لے کر تیل کی پیداوار، پروسیسنگ، معیار، برانڈنگ اور مارکیٹنگ تک پوری ویلیو چین کو مضبوط بنانا ہے۔
پاکستان خوردنی تیل پر کتنا خرچ کرتا ہے؟
وزیراعظم کے مطابق پاکستان تقریباً 4 ارب ڈالر سالانہ خوردنی تیل درآمد کرنے پر خرچ کرتا ہے۔
پاکستان میں زیتون کے کتنے پودے ہیں؟
سرکاری تقریب میں بتایا گیا کہ پاکستان میں زیتون کے پودوں کی تعداد 70 لاکھ سے زیادہ ہو چکی ہے۔
کتنے زرعی گریجویٹس اٹلی بھیجے جائیں گے؟
حکومت نے 100 نوجوان زرعی گریجویٹس کو اٹلی بھیجنے کا اعلان کیا ہے تاکہ وہ زیتون کی کاشت، پروسیسنگ اور مارکیٹنگ میں جدید تربیت حاصل کر سکیں۔
کیا پالیسی سے خوردنی تیل کی درآمد مکمل طور پر ختم ہو جائے گی؟
ایسا دعویٰ فی الحال نہیں کیا جا سکتا۔ پالیسی کا مقصد مقامی پیداوار بڑھا کر درآمدی ضرورت اور درآمدی بل میں کمی لانا ہے۔
متعلقہ Internal Posts
1. پاکستان اور قطر کے درمیان تجارت و سرمایہ کاری بڑھانے پر زور
2. کراچی میں AI-ready ڈیٹا سینٹر کا منصوبہ، 20 میگاواٹ بجلی درکار ہوگی
3. پاکستان اور سنگاپور کے تعلقات کا 60واں سال، تجارت و سرمایہ کاری بڑھانے کا عزم
Website Backlink
مزید اسلامی رہنمائی اور معلومات کے لیے ہماری ویب سائٹ وزٹ کریں:
https://www.themuslimwayoffiicial.com/
News Disclaimer
یہ خبر 25 اگست 2026 کو دستیاب سرکاری اور معتبر ذرائع کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ خبر میں سرکاری طور پر جاری کردہ معلومات اور معتبر ذرائع کی تصدیق شدہ تفصیلات شامل کی گئی ہیں۔ پالیسی کے مستقبل کے نتائج کے بارے میں غیر یقینی دعوے شامل نہیں کیے گئے۔ نئی سرکاری معلومات سامنے آنے کی صورت میں خبر کو اپڈیٹ کیا جا سکتا ہے۔
Copyright
© 2026 The Muslim Way Offiicial. All Rights Reserved.
اس مضمون کو اجازت کے بغیر مکمل طور پر نقل، دوبارہ شائع یا تجارتی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔
Call To Action
اگر یہ خبر آپ کے لیے مفید ہے تو اسے اپنے دوستوں اور اہل خانہ کے ساتھ ضرور شیئر کریں۔ مزید اسلامی رہنمائی اور معلومات کے لیے ہماری ویب سائٹ وزٹ کریں:
https://www.themuslimwayoffiicial.com/
Last Update
25 اگست 2026

Join the conversation
غیر مناسب یا اشتہاری کمنٹس شائع نہیں کیے جائیں گے۔